حضرت مولانا حاجی عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ
ہفتہ، 1 مارچ، 2014
حضرت مولانا حاجی عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ کی ذاتی کوششوں سے تعمیر ہونے والی مسجد
شائع کردہ بذریعہ
Unknown
| جامع مسجد گلزارحبیب چک نمبر 216ٹی ڈی اے کی وہ مسجد جس میں ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے 29سا ل تعمیر اور امامت کی خدمات انجام دیں |
|
|
| جامع مسجد گلزارحبیب چک نمبر 216ٹی ڈی اے کی وہ مسجد جس میں ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے 29سا ل تعمیر اور امامت کی خدمات انجام دیں |
| سنگ بنیاد جس پر علامہ ہزاروی نوراللہ مرقد ہ اور ملک غلام حسین کا نام واضح ہے |
شائع کردہ بذریعہ
Unknown
حضرت علامہ مولانا حاجی عبدالغفور ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے تحصیل عیسیٰ خیل کے ایک دور افتادہ گاؤں میں
آنکھ کھولی اس وقت آپ کے اپنے بیان کے مطابق آپ کے والد ماجد دنیا سے رخصت ہو چکے
تھے حضرت علامہ عبد الغفور ہزاروی
اس
وقت جب آپ اتنے سمجھدار ہو گئے تھے کہ آپ کو یہ اہم بات یاد تھی کہ تحصیل عیسیٰ
خیل سے ہندو رخصت ہو رہے تھے اور اس کا شورو غل اور فساد ات کے اہم واقعات انہیں
یاد تھے۔آپ
کی ابتدائی زندگی اس وقت کے دوسرے لوگوں کے بچوں کی طرح جانوروں کو چراتے اور یل
چلاتے اور زمیندارا کرتے گزری۔ عیسیٰ
خیل میں پٹھان خاندان کی جاگیرداری کا نظام تھا تمام اہل علاقہ ان کی جاگیرداری
میں کام کرتے تھے ۔اسی لیے آپ کے چچا جناب ملک قلندر اعوان مرحوم نے آپکو اس
خاندان کی خدمتکے
لیے ان کے ہاں بھیج دیا ۔کافی عرصہ آپ اس خاندان کی خدمت میں رہے۔ ایک ان کے ناروا
سلوک کی وجہ سے بھاگ کر کالا باغ کے اڈے والے ہوٹل میں ملازم ہو گئے وہاں آپکے چچا
جان
نے آپکو ہوٹل پر کام کرتے دیکھ لیا اور
آپکو واپس گھر لےآئے ۔مرحوم چچا جان آپ سے بہت پیار کرتے تھے اس کی ایک اہم وجہ
تھی کے آپ اپنے چچا کے چھوٹے بھائی کے ایک ہونہاربیٹے
تھے کہ آپ کو آپکی ماں نے بتایا تھا کہ
تمہا رے ابو جان کی داڑھی مبا رک تھی تو
ہزاروی رحمۃاللہ علیہ نے شروع ہی سے یہ سنت سجا لی تھی اور ابتدا ہی سے پنج وقتہ
کامل نمازی بن گئے تھے ۔
ابو
جان رحمۃاللہ علیہ مجھے فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا میں نے زندگی ایک بار بھی جان
بوجھ کر نماز قضا نہیں کی ۔آپ کو تقریباسولہ سال کی عمر میں نارو کی بیماری ہوگئی تھی
۔اور آپکے یہاںپس ماندہعلاقہ
کی وجہ سے علاج نہ ہوسکا اور آپ ٹانگوں سے محتاج ہوگئے ۔اسی محتاجی کے عالم میں آپ
نے عیسیٰ خیل سے خانیوال کا سفر کیا اور اپنی والدہ کے پاس پہنچ گئےاور وہاں سے آپکو آپکی والدہ نے آپکے ماموں کے پاس کراچی
بھیج دیا جہاں آپکا علاج شروع ہوگیا کافی
عرصہ بعد جب آپکو کچھ آرام آگیا تو آپ واپس خانیوال تشریف لائے ۔ یہاں پہلے پہل آپ نے مزدوری کے لیے ریڑھی
لگانا شروع کی لیکن خدا تعالیٰ کو
ایسامنظور نہ تھا ۔ایک حافظ قرآن جناب محمد حیات صاحب نے آپکو مشورہ دیا کہ آپ اس
محتاجی کی حالت میں کوئی اور کام تو کر نہیں سکتے اس لیے آپ قر آن حفظکرنا
شروع کردیں یہ مشورہ ایک نسل کو اور ایک علاقہ کو سنوار گیا۔قرآن کریم کو حفظ کرنے
کے جس استاد مکرم کے پاس آپ کو داخل کیا گیا وہ بھی ایک اللہ کے ولی کامل تھے۔
آپکے استاد مکرم
کا
نام مبارک جناب حضرت علامہ حافط حاجی قاری غلام رسول رحمۃاللہ علیہ تھا۔جناب قاری
صاحب میانوالی کے علاقہ چکٖڑالہ کے اعوان تھے انہوں نے آپکو ابتدا سے آخر تک
اسلامی تعلیم وتربیت سے نوازا اور ایک ایسا ہیرا بنایا کے جس نے ساری زندگی
بلاتفریق سب کو اسلامی اصولوں کی پاسداری اور عشق رسول ﷺ کی تعلیم اور تربیت دیتے گزری ۔
آپ
نے ساری زندگی کسی بد عقیدہ شخص کی اقتداء نہیں کی اور نہ ہی کسی غیر عقیدہ شخص کی نماز جنازہ
پڑھی اور نہ پڑھائی آپ حق بات کہنے سے
کبھی گھبراتے نہ تھے ۔کسی سے ذاتی دشمنی نہیں رکھی ۔آپ رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھےکہ دشمنی صرف اللہ کیلیے اور دوستی بھی صرف اللہ کے لیے ہونی چاہیے۔ ساری زندگی
اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دیتے گزاری۔
اس پر عمل کیا اور اس کی تعلیم دیتے گزاری۔
ضلع خانیوال کے چک نمبر34
کے اس امام مسجد کے زیر سایہ تعلیم حاصل کرنے والا محتاج غریب الوطن طالب علم کو
دین کے علم کی لگن اور شوق نے یہا ں خوب سیراب
ہونے کا موقع فراہمکیا اور اللہ تعالیٰ نے
آپکو وہ جوہر بنایا جو اکثر نایاب ہوا کرتے ہیں ۔استاد مکرم کی خدمت اور علم کی
شوق نے آپ کا یہ سفر بہت آسان کردیا۔ آپ نے استاد رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میںکافی عرٖصہ رہے ۔آپ کے
استاد مکرم نے آپ کی شادی آپ ہی کے اعوان خاندان کے ایک انتہائی نیک بزرگ جن کا
اسم گرامی نور احمد تھا ان کی بیٹی کے ساتھ کرادی۔ ان بزرگ کا انتقالدوران ادائیگی حج ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔